تین جوان ماؤں کے الفاظ

میمونہ (عمر پچیس سال) ، سٹیلا ( 33 سال) اور وسال (23 سال) اس وقت کم خواندہ والدین پر مبنی انضمام پروگرام پر عمل پیرا ہیں۔ معاشرتی رحجان کے سبق کے ساتھ انھیں پرورش کیلۓ بھی مدد دی جاتی ہے اور وہ اپنے ڈچ کے زبان کے پہلے حروف بھی سیکھ رہی ہیں اور ان کا بچہ؟ وہ بھی ان کے ساتھ جاتا ہے۔

مائیں اس کے بارے میں کیا سوچتی ہیں؟ انھوں نے اب تک کیا سیکھا ہے؟ وہ مستقبل کو کیسا دیکھتی ہیں؟

میمونہ

laaggeletterde ouderمیں گیا ناسے ہوں اور میں اپنی بیٹی کے ساتھ مل کر انضمام کے راہ کی پیروی کرتی ہوں۔ ابنداء میں وہ بہت روتی تھی اور میں اکیلی ھی تھی جو اسے دلاسے دے سکتی تھی۔ لیکن دوسری ماؤں اور بچوں کے ساتھ رابطے میں آنے کی وجہ سے وہ خودمختار بھی ہو گئ۔ مہں اب اسے آسانی سے اکیلا کھیلنے کے لیۓ چھوڑ دیتی ہوں۔انضمام پروگرام نے پہلے ہی مجھے بہت کچھ سکھا دیا ہے۔ اب میں مثال کے طور پر جانتی ہوں کہ فضلہ کو کس طرح سے ترتیب دینا ہے۔ بون نے میری بیٹی کیلۓ ایک دن کے اوقات میں چھوٹے بچوں کی نگہداشت کے مرکز کو ڈھونڈنے میں بھی مدد کی۔ وہ اگر نگہداشت کے مرکز میں ہوتی ہے امید ہے کہ میں تعلیم حاصل کر سکتی ہوں۔

  

وسال

laaggeletterde ouderچارسال پہلے میں مراکش سے بیلجیم آئ تھی۔ میں اور میرے شوہر کے خاندان کا کوی فرد یہاں نہیں ہے۔ اور ھمیں خود پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔ مجھے بہت خوشی ہے کے اپنے سب سے کم عمر بیٹے کے ساتھ انضمام پروگرام کی پیروی کروں گی۔ دوسری ماؤں کے ساتھ رابطہ مجھے مزید خود اعتمادی دیتی ہے۔ مجھے اب پتہ چلا کہ میں بغیر ڈگری والی اکیلی نہیں ہوں۔ مجھے کیا دلچسپ لگتا ہے؟

جوھمیں مشورے ملتے ہے پرورش کے حوالے سے میں ایک ماں کی حیثیت سے زیادہ پر اعتماد محسوس کرتی ہوں۔ اور اپنے بیٹےکو بچوں کی نگہداشت کے مرکز پر بھیجنے کیلۓ ھمت رکھتی ہوں۔ ایسا کچھ جو کہ میں نے اپنے دو بڑے بچوں کے ساتھ نہیں کیا تھا۔ میں مستقبل میں میٹرک کی تعلیم کا ڈپلومہ کرنا چاہوں گی۔

  

سٹیلا

laaggeletterde ouderمیں تین بچوں کی کونگولیز ماں ہوں۔ میرے لۓ یہ آرامدہ ہے کی میں اپنے کم عمر ڈیڑھ سال کے بچے کے ساتھ کلاس کیلۓ جا سکتی ہوں۔ میں اپنے آپ کو اب زیادہ خود مختار محسوس کرتی ہوں۔ مثال کے طور پر ھم گروہ کی شکل میں سٹیشن گۓ تھے اور ھمارے استاد نے ھمیں دکھایا کے ھمیں کیسے لکٹ خریدنا چاہیے۔ھم کیسے اوقات اور پلیٹ فارم کو سمجھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ میں ڈچ زبان کے پہلے حروف سیکھ رہی ہوں۔ کیونکہ میری بڑی بیٹی ڈچ زبان کے اسکول جاتی ہے۔ اس لیۓ اھم ہے کے میں زبان کو سمجھ سکوں۔ میں مستقبل کو کیسے دیکھتی ہوں؟ میں اپنی لکھائ بہتر کرنا چاہتی ہوں۔ تاکہ میں بچوں کی دیکھ بھال کرنے والی کار کن بن سکوں۔

  

Hassib keuken

حسیب کو اس میں دلچسپی کیسے پیدا ہوی؟

حسیب افغانستان میں پولیس افسرتھا۔ اب وہ پیانو فا بریک کمیونٹی سنٹر کے کیفے الکانٹرا میں باورچی خانے میں کام کرتا ہے۔

Rebeca

ربیکا کا خواب ہے کہ وہ صحت کی دیکھ بھال کے شعبے میں ملازمت حاصل کرے۔

رومانیہ کی ربیکا (37) دس سال سے زیادہ عرصے سے بیلجیم میں مقیم ہے۔ لیکن کچھ عرصہ پہلے تک وہ اتنا زیادہ باہر نہیں نکلتی تھی۔

اگلا مفت انضمام کورس کا آغاز 06/09/2021 - 25/10/2021